World
جبوتی کشتی حادثہ: 139 تارکین وطن جاں بحق، اقوام متحدہ کی تصدیق
جبوتی کے ساحل کے قریب تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں بچوں سمیت کم از کم 139 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
مشرقی افریقہ کے ملک جبوتی کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک دلخراش سمندری حادثے میں بچوں سمیت کم از کم 139 تارکین وطن جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور اقوام متحدہ کی متعلقہ ایجنسیوں کے مطابق یہ بدقسمت کشتی جبوتی سے روانہ ہو کر یمن کی طرف جا رہی تھی کہ خلیج عدن کے خطرناک پانیوں میں الٹ گئی۔ اس المناک سانحے نے ایک بار پھر تارکین وطن کے غیر قانونی اور خطرناک سمندری سفر پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی اور دیگر امدادی اداروں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈوبنے والوں میں خواتین اور کم سن بچے بھی شامل ہیں، جو اس انسانی المیے کو مزید دل دہلا دینے والا بناتا ہے۔ حادثے کے فوری بعد مقامی سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیموں نے سمندر میں ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، تاہم خراب موسم اور طلاطم خیز موجوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے، جو اس حادثے کی بنیادی وجہ بنی۔ خلیج عدن کا یہ رستہ افریقہ سے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے والے تارکین وطن کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں اکثر غیر معیاری اور اوور لوڈ کشتیاں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس روٹ پر غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے اور عالمی برادری سے امدادی سروسز کو مزید مؤثر بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ اس ہولناک سانحے نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ تارکین وطن کے اس بحران کی طرف مبذول کرا دی ہے، جس کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوری اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کو روکا جا سکے۔