Technology
سال 2026 میں پاس ورڈ کے خطرات اور پاس کیز کی اہمیت
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے سالوں میں روایتی پاس ورڈ کا استعمال سکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے گوگل اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں پاس کیز (Passkeys) کے استعمال پر زور دے رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 تک روایتی پاس ورڈ کا استعمال صارفین کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز اور ہیکنگ کے پیچیدہ طریقوں کی وجہ سے اب پرانے پاس ورڈ کے نظام پر بھروسہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہیکرز اب فشنگ حملوں اور جدید الگورتھم کی مدد سے منٹوں میں عام پاس ورڈز کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے صارفین کا ذاتی اور مالی ڈیٹا شدید خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر دنیا بھر کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں اب پاس ورڈ کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔
اس مسئلے کا بہترین حل 'پاس کیز' (Passkeys) کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ گوگل اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں صارفین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ روایتی پاس ورڈز کو چھوڑ کر پاس کیز کو اپنائیں جو کہ سائن اِن کرنے کا ایک انتہائی محفوظ اور تیز تر طریقہ ہے۔ پاس کیز فنگر پرنٹ، فیس ریکگنیشن یا پن کوڈ کی مدد سے کام کرتی ہیں، جنہیں ہیک کرنا روایتی پاس ورڈز کے مقابلے میں ناممکن یا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ پاس کیز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ فشنگ حملوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتی ہیں کیونکہ ان میں پاس ورڈ چوری ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ لوگ اب بھی پاس ورڈز بنانے کے پرانے اور پیچیدہ اصولوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن پر خود ان کے تخلیق کار بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے پاس ورڈ کلچر کا خاتمہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ عام صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی آن لائن سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر پاس کیز اور دیگر جدید تصدیقی طریقوں کی طرف منتقل ہوں تاکہ ہیکرز کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔