World
برطانوی بجٹ پر ایران جنگ کے سائے، آئی ایف ایس کی وارننگ
برطانیہ کے معتبر تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع برطانوی حکومت کے مالیاتی اور بجٹ منصوبوں کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی بے یقینی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں حکومتی اخراجات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
برطانیہ کے موقر معاشی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز (IFS) نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے بادل برطانوی حکومت کے مالیاتی اور بجٹ کے منصوبوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے جو براہ راست برطانوی خزانے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے توانائی کی سپلائی متاثر ہوگی اور افراط زر میں ایک بار پھر تیزی آ سکتی ہے۔ برطانوی حکومت کو اس صورتحال میں اپنے مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بڑھتے ہوئے اخراجات ملکی معیشت پر اضافی بوجھ ڈالیں گے۔
تھنک ٹینک نے مزید کہا ہے کہ اگر حکومت اپنے موجودہ اخراجات کے منصوبوں پر قائم رہتی ہے تو اسے ٹیکسوں میں اضافے یا دیگر شعبوں میں فنڈز میں کٹوتی کرنے جیسے مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ایران جنگ کے طویل المدتی اثرات نہ صرف برطانوی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حکومت کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک ہے کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں، اور مزید معاشی دباؤ سیاسی اور معاشی دونوں محاذوں پر مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ برطانوی وزارت خزانہ کو آنے والے دنوں میں اپنی مالیاتی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ اس ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔