Politics
امریکی کسان اور رینچرز بڑھتی مہنگائی کے باوجود ٹرمپ کے حامی
مڈٹرم انتخابات سے قبل امریکی کسان اور رینچرز بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی سیاسی وابستگی اور وفاداری میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
امریکہ کے مختلف حصوں میں زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ افراد ان دنوں شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کے نرخوں میں اضافہ اور پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے امریکی رینچرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں جب اہم مڈٹرم انتخابات میں چند ہی ہفتے باقی رہ گئے ہیں، ان کسانوں کی پریشانیاں ملکی سیاسی بحث کا ایک اہم نکتہ بن چکی ہیں۔
زیادہ تر ان کسانوں کا تعلق انھی ریاستوں سے ہے جنھوں نے ماضی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ آج بھی زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مالی مشکلات کے باوجود ان کی بڑی تعداد ٹرمپ کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداری پر قائم ہے۔ رینچرز کا کہنا ہے کہ معاشی چیلنجز اپنی جگہ، لیکن ان کے سیاسی نظریات اور صدر ٹرمپ کے ساتھ وابستگی پر ان باتوں کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال آنے والے مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ مہنگائی ہر عام شہری کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، لیکن روایتی ووٹرز کا اپنی سیاسی قیادت کے ساتھ جڑے رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی اور نظریاتی وابستگیاں محض معاشی دباؤ سے ختم نہیں ہوتیں۔ انتخابات کے قریب آتے ہی تمام سیاسی جماعتیں ان کسانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔