World
بریگزٹ ریفرنڈم ۲۰۱۶: روسی مداخلت پر برطانوی وزیراعظم کا بیان
برطانوی وزیراعظم اینڈی برہم نے پہلی بار عوامی سطح پر اعتراف کیا ہے کہ روس نے ۲۰۱۶ کے بریگزٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی تھی۔ یہ دعویٰ برطانوی سیاست میں انتہائی اہم نوعیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی سیاست میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برہم نے واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ۲۰۱۶ کے بریگزٹ ریفرنڈم کے دوران روس کی جانب سے مداخلت کی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی تاریخ میں کسی موجودہ وزیراعظم نے عوامی سطح پر باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے تاریخی فیصلے میں بیرونی عناصر، بالخصوص روس کا ہاتھ تھا۔ اس بیان نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ انکشاف برطانوی سلامتی اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ سیاسی حلقوں میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ مداخلت ووٹنگ کے حتمی نتائج پر کتنی اثر انداز ہوئی اور اس کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے سائبر سیکیورٹی اور جمہوری عمل کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں بھی گرما گرم بحث متوقع ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر مزید تفصیلات اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس اہم ترین انکشاف کے بعد بین الاقوامی تعلقات اور خاص طور پر روس کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں مزید پیچیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی عہدیدار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک کے جمہوری عمل کو کسی بھی بیرونی خطرے سے محفوظ رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔