World
ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تہران نے مملکت پر ہونے والے حملوں کے بعد سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی عرب کے ہم منصب کے ساتھ ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور باہمی سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تنازعات کا حل صرف اور صرف گفت و شنید اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
اس گفتگو کے دوران تہران کی جانب سے ایک اہم سفارتی پیشکش بھی سامنے آئی ہے۔ ایرانی حکام نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ اور مہلک حملوں کے بعد سعودی حکومت اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف ہے کہ یمن کے بحران کا پرامن حل خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور تہران اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
مبصرین کے مطابق، یہ رابطہ دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری اور باہمی اعتماد کی بحالی کی سمت میں ایک اور قدم ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لیے جو کوششیں شروع کی گئی تھیں، یہ ٹیلی فونک رابطہ اسی تسلسل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
آنے والے دنوں میں اس پیشکش کے کیا مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں، اس کا انحصار فریقین کی نیت اور عملی اقدامات پر ہوگا۔ اگر سعودی عرب اور ایران یمن کے معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے یمن کی جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔