World
سیউটা یا سبتہ: ہسپانوی شہر کا نام اور مراکش کے ساتھ تنازع
ہسپانوی بادشاہ فیلیپ ششم کے دورے کے بعد سیউটা اور ملیلا کی حیثیت اور نام کا تنازع ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ مراکش اور سپین کے درمیان ان سرحدی شہروں کی ملکیت پر طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔
سپین کے بادشاہ فیلیپ ششم کے دورے کے بعد شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی شہروں سیউটা اور ملیلا کی حیثیت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ان شہروں کا شمار دنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں تاریخ، جغرافیہ اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں۔ ان شہروں کو سپین میں سیউটা کہا جاتا ہے جبکہ عربی اور مراکشی زبان میں اسے سبتہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کے دو نام اس کی متنازع حیثیت اور ثقافتی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
مراکش طویل عرصے سے ان دونوں شہروں پر اپنا حق جتاتا رہا ہے اور انہیں اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے۔ مراکشی حکومت کے مطابق یہ علاقے نوآبادیاتی دور کی یادگار ہیں جنہیں سپین کو واپس کرنا چاہئے۔ دوسری طرف ہسپانوی حکومت کا موقف ہے کہ یہ شہر صدیوں سے ہسپانوی سرزمین کا حصہ ہیں اور یہاں کے باسیوں کی اکثریت ہسپانوی شناخت رکھتی ہے۔ بادشاہ فیلیپ ششم کا یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ ہسپانوی ریاست ان علاقوں پر اپنی حاکمیت کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور وہ اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
اس تنازع کی جڑیں کئی صدیوں پرانی ہیں جب بحیرہ روم اور آبنائے جبل الطارق کے اسٹریٹجک مقام پر تسلط حاصل کرنے کے لیے یورپی اور افریقی طاقتوں کے درمیان کشیدگی جاری رہتی تھی۔ سیউটা سمندری تجارت اور دفاعی لحاظ سے انتہائی اہم پوزیشن رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کی نظروں میں رہا ہے۔ یہاں کے مقامی باشندے پیچیدہ سیاسی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں جہاں انہیں بیک وقت ہسپانوی اور یورپی قوانین کے ساتھ ساتھ خطے کی زمینی حقائق کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سپین اور مراکش کے درمیان تعلقات میں بہتری کے باوجود سیউটা اور ملیلا کا مسئلہ ایک سلگتا ہوا موضوع بنا رہے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط ہیں لیکن علاقائی خود مختاری اور سرحدوں کا یہ تنازع وقتاً فوقتاً سفارتی کشیدگی کو جنم دیتا رہتا ہے۔ بادشاہ کے اس حالیہ دورے نے جہاں ایک طرف ہسپانوی عوام میں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارا ہے، وہیں دوسری طرف مراکش کی طرف سے اس پر محتاط اور سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے جو اس دیرینہ تنازع کے حل کی پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔