LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ اور ریاض ائیرپورٹ حملہ، تہران کا امریکہ پر اظہارِ ناپسندیدگی

News Image
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کے کچھ امن مطالبات کو قبول کر لیا ہے تاہم تہران نے اس کے ردعمل کو ناکافی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ریاض کے ہوائی اڈے پر ایک بار پھر حملہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران صورتحال انتہائی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ اہم بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے بالآخر اس کے بعض امن مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والا ردعمل موجودہ بحران کے تناظر میں تاحال ناکافی ہے۔ یہ سفارتی پیشرفت اور کشیدگی ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب خطے میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اسی تناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر ایک بار پھر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس تازہ حملے نے خطے میں سکیورٹی خد مزید بڑھا دیے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ائیرپورٹ پر ہونے والے اس حملے کے بعد فضائی حدود اور سکیورٹی کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے اور فضائی سفر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بین الاقوامی سفارتی حلقے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک طرف امن کی بحالی کے لیے پس پردہ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تو دوسری طرف زمینی حقائق اور حملے تنازعے کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے جلد بازی میں کوئی لچکدار رویہ اختیار نہ کیا تو یہ کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔