Pakistan
خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، فوج طلب، پشاور کی اہم شاہراہں بند
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج اور اس کے اثاثوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور سمیت اہم علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کے دستوں اور اثاثوں کی تعیناتی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) کے مطابق، فوج کی یہ تعیناتی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، املاک کی حفاظت اور صوبے میں سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی کے لیے کی گئی ہے۔ یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دی گئی ہے، جو گورنر راج کے نفاذ کے اعلان کی مدت تک نافذ العمل رہے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی، راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی مشاورت سے ضروری فوجیوں اور اثاثوں کی تعداد کا تعین کریں گے۔ اس حکم نامے کی کاپیاں صدر کے سیکریٹری، وزیراعظم کے مشیر، گورنر خیبر پختونخوا کے سیکریٹری، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، صوبائی داخلہ سیکریٹری، آئی جی پی خیبر پختونخوا اور پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ ایمرجنسی کا یہ نفاذ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر ہونے والی اہم ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ یہ ملاقات مرکز میں برسر اقتدار پی ڈی ایم حکومت اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے خلاف انسدادِ پالیسی اور دیگر سیاسی امور پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوئی ہے۔ دوسری جانب، ایمرجنسی کے نفاذ کے فوری بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پشاور کے ریڈ زون اور اہم علاقوں کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کرنے کے لیے مختلف مقامات پر بھاری کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب، خیبر بازار، شعبہ بازار، ایڈورڈز کالج اور جیل روڈ سمیت کئی مقامات پر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ شیر شاہ سوری روڈ کو بھی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سنٹرل پولیس آفس اور دیگر اہم سرکاری تنصیبات کے گرد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھاری دستے تعینات کیے گئے ہیں اور صوبائی دارالحکومت کے بیشتر حصوں میں کاروباری اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ شہر میں لینڈ لائن اور ڈی ایس ایل سمیت تمام ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں بالخصوص بینک صارفین کو اے ٹی ایم کی بندش کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔