LIVE
Loading Breaking News...

جبوتی کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 139 جاں بحق

News Image
اقوام متحدہ کے ادارے برائے ہجرت (IOM) کے مطابق جبوتی کے قریب مہاجرین کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم 139 افراد ہلاک اور 84 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ کشتی 300 سے زائد افراد کو لے کر جبوتی سے یمن جا رہی تھی جب وہ حادثے کا شکار ہوئی۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارے برائے ہجرت (آئی او ایم) نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی ایک کشتی کے سمندر میں ڈوب جانے کے نتیجے میں کم از کم 139 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں کم از کم 15 بچے بھی شامل ہیں۔ اس ہولناک حادثے کے بعد لگ بھگ 84 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں ان کی تلاش کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والی کشتی پر مجموعی طور پر 305 افراد سوار تھے، جو غیر قانونی طریقے سے بہتر مستقبل کی تلاش میں اس خطرناک راستے کا انتخاب کر رہے تھے۔ یہ افسوسناک واقعہ 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب جبوتی کے ساحلی قصبے اوبوک کے شمال میں گہیری کے قریب پیش آیا۔ زندہ بچ جانے والے افراد کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ کشتی اوور لوڈنگ اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے الٹ گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں تقریباً 82 افراد معجزانہ طور پر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے، جنہیں مقامی حکام اور آئی او ایم کی ٹیمیں طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے حکام نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر زمین پر موجود ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ جبوتی میں آئی او ایم کے مشن کے سربراہ الیگزینڈر کوئساک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ المیہ ایک بار پھر اس بات کی ہولناک یاد دہانی کراتا ہے کہ تارکین وطن اس خطرناک ہجرت کے راستے پر کتنے زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ بہتر اقتصادی مواقع کی تلاش میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تارکین وطن یمن کے راستے خلیجی ممالک کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے، حالانکہ یمن خود شدید خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ دوسری جانب، یہ تارکین وطن بڑی تعداد میں ایتھوپیا اور خطے کے دیگر حصوں سے تعلق رکھتے ہیں جو وہاں جاری غربت، قحط اور اندرونی تنازعات کے باعث ہجرت پر مجبور ہیں۔ ایتھوپیا میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو 2020 سے 2022 کے دوران ہونے والی تیگرائے جنگ کے بعد سب سے بڑی کشیدگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی روٹ کے نام سے معروف یہ راستہ تارکین وطن کے لیے ہمیشہ سے انتہائی مہلک رہا ہے، جہاں سمندری حادثات کے علاوہ انسانی اسمگلنگ اور جبری گرفتاریوں جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔ آئی او ایم کے مسنگ مائیگرنٹس پروجیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف سال 2025 کے دوران اس راستے پر 900 سے زائد تارکین وطن یا تو ہلاک ہو گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور ان پسماندہ خطعات میں بنیادی حالات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔