LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ، تفصیلی سیاسی تجزیہ

News Image
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ خراب سیکیورٹی اور دہشت گردی بتائی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کے آئینی جواز اور سیاسی محرکات پر گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ سنہ دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے بعد سے ہی صوبے کی سیاسی صورتحال اور وفاق کے درمیان کشمکش جاری تھی جو بالاآخر آئینی مداخلت پر منتج ہوئی۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا خاتمہ بتائی گئی ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چون کے تحت وفاق کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں، تاہم سیکیورٹی کی خرابی خود بخود یہ ثابت نہیں کرتی کہ صوبائی آئینی حکومت کا چلنا ناممکن ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین اس اقدام کے سیاسی محرکات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کا موازنہ بلوچستان سے بھی کیا جا رہا ہے جہاں دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے بعد سے سیکیورٹی کے شدید چیلنجز موجود ہیں، لیکن وہاں اس نوعیت کا آئینی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اکیلی دہشت گردی ہی غیر معمولی وفاقی مداخلت کا جواز ہے، تو دونوں صوبوں میں آئینی ردعمل کا طریقہ کار مختلف کیوں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی چیلنجز فرضی ہیں، بلکہ یہ کہ گورنر راج کے جواز کو دہشت گردی کی موجودگی کے علاوہ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ موجودہ آئینی مشینری اس سے نمٹنے میں کیوں ناکام ہو گئی۔ اس پورے تنازعے کے پس منظر میں نو مئی کے واقعات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی بھی ایک اہم عنصر ہے جس نے ریاست اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے درمیان خلیج کو مزید چوڑا کیا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت قائم کی اور پارٹی کو ایک مضبوط سیاسی بیس فراہم کیا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں جماعت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اپنایا اور دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششیں کیں جو کہ سیاسی محاذ آرائی کا باعث بنیں۔ اکتوبر اور نومبر دو ہزار چوبیس کے دوران اسلام آباد کے ڈی چوک تک پہنچنے کی یہ کوششیں ناکامی پر ختم ہوئیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ ان تمام عوامل نے وفاقی حکومت کے لیے یہ جواز فراہم کیا کہ وہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ کرے تاکہ صوبے کے انتظامی امور کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کے طویل مدتی سیاسی اثرات کیا ہوں گے اور کیا یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکے گا یا سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھاوا دے گا۔