LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل کی تشکیل، ممبران اور محکموں کا اعلان

News Image
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایک گیارہ رکنی تکنیکی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کونسل صوبے کے امور چلانے میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کرے گی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے ایک گیارہ رکنی تکنیکی مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ کونسل انتہائی قابل افراد پر مشتمل ہے جو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبائی حکومت کے فرائض انجام دینے میں معاونت فراہم کریں گے۔ کونسل میں شامل شخصیات کو ان کی مہارت کے مطابق مختلف اہم محکمے سونپے گئے ہیں تاکہ صوبے میں گورننس کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ کونسل میں شامل افراد کی تفصیلات کے مطابق کفایت اللہ خان کو صوبائی محکمہ داخلہ کے امور کی نگرانی سونپی گئی ہے، جو اس سے قبل خیبر پختونخوا کے جیل خانہ جات کے آئی جی اور فاٹا ٹریبونل کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ مالیاتی امور کی ذمہ داری وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین طارق محمود پاشا کو دی گئی ہے جبکہ قانون سے متعلق امور پر گورنر کو مشورہ دینے کے لیے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ عامر جاوید کو مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے شعبے کی ذمہ داری ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو دی گئی ہے جو بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اور سابق نگران صوبائی وزیر ہیں۔ صوبائی مشاورتی کونسل میں عسکری و سول شخصیات کا امتزاج شامل کیا گیا ہے جن میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان بھی شامل ہیں، جو اپنی شاندار عسکری خدمات کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ دیگر اراکین میں معدنیات اور کان کنی کے امور کے لیے ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، صنعت و تجارت کے لیے ایف بی آر کے سابق چیئرمین محمد آصف راشد، مواصلات و تعمیرات کے لیے سابق نگراں صوبائی وزیر آصف رفیق، اور مذہبی امور کے لیے خیبر پختونخوا کے چیف خطیب مولانا محمد طیب قریشی شامل ہیں۔ توانائی کے شعبے کے امور عثمان سیف اللہ خان کے سپرد کیے گئے ہیں جو سابق صدر غلام اسحاق خان کے پوتے اور سابق سینیٹر ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور کو اطلاعات اور نشریات کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کونسل صوبے میں آئینی و انتظامی امور کو چلانے کے لیے وفاقی حکومت کے احکامات کے تحت کام کرے گی اور مختلف محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔