LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ایمرجেন্সি اور گورنر راج کی تاریخی حیثیت

News Image
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجেন্সি اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک کی سیاسی تاریخ میں ماضی میں لگنے والے ایسے ہی مختلف فیصلوں پر نظر ڈالی جا رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ماضی میں بھی کئی بار صوبائی حکومتوں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے صدر مملکت کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجেন্সি اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ دفعات صوبوں میں آئینی مشینری کی ناکامی اور اندرونی کشیدگی کے تناظر میں وفاق کو صوبے کا کنٹرول سنبھالنے کا اختیار دیتی ہیں۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مرکز نے اس قسم کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کسی صوبائی حکومت کو ختم کیا ہو بلکہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک متعدد بار صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلا گورنر راج جنوری 1949 سے اپریل 1951 تک پنجاب کے قلب میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے لاہور کے دورے کے دوران اختلافات اور قانونی دستاویزات میں تضاد کی بنیاد پر نواب مامدوت کی وزارتِ عظمیٰ کو ختم کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ اسی طرح دسمبر 1951 سے مئی 1953 تک سندھ میں کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات کے تحت محمد ایوب کھوڑو کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا جو 1953 کے صوبائی انتخابات تک برقرار رہا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں بھی اس قسم کے سیاسی اقدامات دیکھنے میں آئے جب فروری 1973 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کیا۔ اس کے علاوہ فروری 1975 میں خیبر پختونخوا (اس وقت کے صوبہ سرحد) میں بھی بیرونی خلفشار اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 76 روز کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ جون 1988 میں ضیاء الحق کے دور میں سندھ کی نگران حکومت کو ختم کر کے جنرل رحیم الدین خان کو گورنر بنایا گیا، جبکہ فروری 1994 میں بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں بھی کے پی میں صابر شاہ کی وزارت کو معطل کر دیا گیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں بھی ایسے کئی مواقع آئے جن میں فروری 2009 کے دوران صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران گورنر راج نافذ کیا، اگرچہ اسمبلی معطل نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جنوری 2013 میں کوئٹہ میں ہولناک بم دھماکوں کے بعد ہزارہ کمیونٹی کے طویل دھرنے اور ملک گیر احتجاج کے دباؤ پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان میں نواب اسلام رئیسانی کی صوبائی حکومت کو برطرف کر کے گورنر راج نافذ کیا۔ علاوہ ازیں، ملک بھر میں مارشل لاء اور ایمرجنسی کی طویل ترین تاریخ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں 1977 سے 1985 تک ضیاء الحق اور 1999 سے 2007 تک جنرل پرویز مشرف کے ادوار شامل ہیں۔