Politics
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، سیاسی ردعمل
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں، وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی ہے اور اس اقدام نے بہت سے لوگوں کے لیے اکتوبر کے مہینے کی تاریک اور تلخ یادوں کو تازہ کر دیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کو صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد مرکز نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جان بوجھ کر پہلو تہی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے ساتھ ہی اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا، جس کی تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف طویل مارچ کی کال کے بعد سے توقع کی جا رہی تھی۔ اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نامور صحافی مظہر عباس نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اکتوبر کا مہینہ اکثر جمہوریت کے لیے بری خبریں لے کر آتا ہے، اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر بار کسی نہ کسی سیاسی جماعت نے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ سابق سفیر اور تجزیہ کار ملیحہ لودھی نے بھی ان خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوری عمل کے لیے ہمیشہ سے کٹھن رہا ہے اور موجودہ حالات میں صوبائی خودمختاری کو سلب کرنا ملک کو مزید بحران کی طرف لے جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، نیشنل ڈیموکریٹک موومنت کی چیئرپرسن بشریٰ گوہر اور ہیومن রাইٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلوں سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور جمہوری عمل کمزور ہوگا۔ وکلاء اور آئینی ماہرین نے بھی اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وکیل ردا حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے خیبر پختونخوا کے عوام کے جمہوری حق اور صوبائی خودمختاری کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جو عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی طرح وکیل حسن عبداللہ نیازی نے آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں آئینی مشینری کی خرابی کا کوئی جواز موجود نہیں تھا کیونکہ صوبائی اسمبلی اور کابینہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے اس قسم کے سخت اقدامات سے قومی استحکام مزید متزلزل ہوگا اور سیاسی چپقلش میں خطرناک اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل جبر اور ایمرجنسی کے نفاذ میں نہیں بلکہ بامقصد مذاکرات اور جمہوری روایات کے احترام میں پنہاں ہے، اور اگر اس روش کو نہ بدلا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان خیبر پختونخوا کے عوام کو اٹھانا پڑے گا۔