Politics
حافظ نعیم الرحمان کا پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک وزیراعظم سے ملاقات سے انکار
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جب تک پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو 12 اکتوبر کے بعد اسلام آباد مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی باقاعدہ یقین دہانی نہیں کراتی، اس وقت تک وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ منصورہ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزراء کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت لیوی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، ایسی صورت میں وزیراعظم سے ملاقات کی کوئی خواہش نہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نے جماعت اسلامی کو لیوی کے خلاف احتجاجی مارچ معطل کرنے کا کہتے ہوئے ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم جماعت اسلامی کی قیادت کا موقف ہے کہ مطالبات تسلیم کیے بغیر مذاکرات بے سود ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور سعودی عرب کی جانب سے ایشیائی ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں پانچ ڈالر فی بیرل کمی کے فوائد عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لیوی کے خلاف 42 روز تک دھرنے دیے ہیں اور ملک بھر میں عوامی اجتماعات اور دستخطی مہم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر حکومت نے ریلیف فراہم نہ کیا تو جماعت اسلامی 12 اکتوبر کے بعد اسلام آباد مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی۔ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی مجبوریوں کا رونا رونے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پابندیوں کی شقیں حکومتی شاہ خرچیوں اور گیارہ ارب روپے مالیت کے طیارے کی خریداری پر لاگو نہیں ہوتیں؟ پنجاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں چار دہائیوں پر محیط خاندانی حکمرانی نے تعلیم اور زراعت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ہزاروں اسکولوں کو فروخت کر دیا گیا ہے جبکہ مزید اسکولوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کھاد کی بوری کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ گندم کے کاشتکاروں اور عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی بینک اور ملکی سطح پر غربت کے بڑھتے ہوئے تناسب کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غربت میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور حکومتی پالیسیوں نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔