Business
عالمی معاشی ترقی میں سستی اور تجارت کی نئی رپورٹس
اقوام متحدہ کی تجارتی رپورٹ کے مطابق سال 2026 میں عالمی معاشی ترقی کی شرح کم ہو کر 2.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی ترقی پذیر معیشتوں کو ٹیکنالوجی اور پالیسی کی بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (UNCTAD) کی جاری کردہ تازہ ترین 'ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2026' کے مطابق آنے والے برسوں میں عالمی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی معاشی ترقی کی شرح جو سال 2025 میں 2.9 فیصد تھی، وہ کم ہو کر 2026 میں 2.6 فیصد اور 2027 میں 2.7 فیصد تک آ سکتی ہے۔ اسی طرح ترقی پذیر معیشتوں کی ترقی کی رفتار بھی 4.7 فیصد سے گھٹ کر 4 فیصد تک گرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی تکنیکی اور پالیسی نوعیت کی رکاوٹیں ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں اب اپنے معاشی اور قومی سلامتی کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے صنعتی، تجارتی، مالیاتی اور ٹیکنالوجی کی پالیسیوں کا استعمال بڑھا رہی ہیں۔ مارکیٹ تک رسائی اور زیادہ قدر والی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کی صلاحیت اب پہلے سے زیادہ ٹیکنالوجی، فنانس اور جیو پولیٹکس پر منحصر ہو چکی ہے۔ عالمی تجارت کی اس نئی تشکیل کا ترقی پذیر ممالک پر مختلف نوعیت کا اثر پڑے گا، جہاں کچھ ممالک متبادل سپلائرز یا درمیانی مرکز کے طور پر ابھر سکتے ہیں، تاہم ان فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط پیداواری اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔دوسری جانب، سال 2025 میں عالمی تجارت کی مالیت ریکارڈ 35 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی جبکہ 2026 میں تجارت کی بلند قیمتیں توانائی کے بحران کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا شاخسانہ ہیں۔ تجارتی نمونوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، مثال کے طور پر 2024 کے بعد سے چین اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت میں 20 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ مشرقی ایشیا نے چین اور شمالی امریکہ دونوں کے ساتھ اپنی تجارت کو وسعت دی ہے۔ برآمدی کنٹرول، سرمایہ کاری کی اسکریننگ اور سپلائی چین کی شرائط نے نئے آنے والوں کے لیے اسٹریٹجک شعبوں تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایشیا بدستور سب سے متحرک برآمدی خطہ بنا ہوا ہے جہاں ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی سامان کا تبادلہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ چین اور دیگر بڑے ایشیائی برآمد کنندگان کی جانب سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو ترسیلات بڑھانے کی وجہ سے ساؤتھ ساؤتھ تجارت بھی گہری ہو رہی ہے۔ درآمدات کے محاذ پر، ایشیا میں 2026 کے دوران سب سے مضبوط نمو ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد شمالی امریکہ کا نمبر آتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت سے متعلق اشیا کی طلب نے مجموعی درآمدات کو سہارا فراہم کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں معاشی استحکام کے لیے ممالک کو نئے تجارتی اور تکنیکی خطوط پر سوچنا ہوگا۔