Pakistan
خیبر پختونخوا ایمرجنسی پر وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس اور دفاع
وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال کا دفاع کیا اور صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا روزانہ کی شہادتوں سے بچنے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزراء نے خیبر پختونخوا میں نافذ کی جانے والی ہنگامی صورتحال کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وزراء کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد تک ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے حالات انتہائی نازک نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ وزراء نے واضح کیا کہ ریاست کو امن و امان بحال رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ہوں گے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے جانی نقصان کے پیش نظر یہ ایک کڑا اور مشکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس اب کوئی اور چارہ نہیں بچا تھا سوائے اس کے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت ترین فیصلے کرے، کیونکہ روزانہ کی شہادتیں اب ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا متفقہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن کے قیام کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وزراء نے صوبائی حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر تعاون کریں تاکہ ملک کو درپیش اس بڑے چیلنج پر قابو پایا جا سکے اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔