Pakistan
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کئی صوبائی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے انہیں سیاسی طور پر محرک نہ ہونے کا قرار دیا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا۔ اس پیش رفت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے متعدد صوبائی رہنماؤں اور کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے ان فیصلوں کو غیر آئینی اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ناکام بنانا اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ صوابی کے مقام پر پی ٹی آئی کا طویل مارچ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بظاہر ماند پڑ گیا اور کارکنان کو منتشر ہونا پڑا۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان تمام اقدامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کسی بھی طرح سے سیاسی طور پر محرک نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کی رٹ بحال کرنے اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری اقدامات تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعت کے پاس اپنی حکومت بچانے اور عمران خان کے لیے ریلیف حاصل کرنے کے سنہری مواقع موجود تھے لیکن انہوں نے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر کے خود یہ موقع گنوا دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین کشیدگی سے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی بحران میں مزید شدت آ گئی ہے اور آنے والے دنوں میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ صوبائی سطح پر ہونے والی ان گرفتاریوں اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے طول و عرض میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔