Technology
بل گیٹس کی جانب سے اے آئی کے خطرات اور سائبر حملوں پر انتباہ
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے جڑا سب سے بڑا اور فوری خطرہ خطرناک سائبر حملے ہیں۔ انہوں نے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال اور سکیورٹی کے سخت قوانین بنانے پر زور دیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی شخصیت بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانیت کو اس وقت اے آئی کی جانب سے سب سے بڑا اور فوری خطرہ خطرناک سائبر حملوں کی صورت میں لاحق ہے۔ بل گیٹس نے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم ألٹمین کے اس بیان پر بھی تبصرہ کیا جس میں انہوں نے اے آئی کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو 'بری سائنس فکشن' قرار دیا تھا۔ بل گیٹس نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر کے تمام ذمہ دار اے آئی رہنماؤں کو اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ منفی اثرات کو سنجیدہ لینا چاہیے۔
بل گیٹس نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس کے مقابلے میں ہمارا سیاسی اور قانونی نظام سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اے آئی کے شعبے میں بھی اسی طرح کے حفاظتی اصول اور قوانین نافذ کیے جانے چاہئیں جو کہ ہوائی جہازوں، کاروں اور ادویات کی صنعتوں میں نافذ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بے لگام استعمال کو روکنے کے لیے حکومتوں اور صنعت کے بڑے رہنماؤں کو مل کر ایک مؤثر فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ بل گیٹس نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے تناظر میں کچھ مخصوص ملازمتوں کو انسانوں کے لیے مخصوص کیا جانا چاہیے تاکہ بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خطرات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ انہوں نے ٹیک انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ محض منافع کے حصول کے بجائے انسانی فلاح و بہبود اور سکیورٹی کو ترجیح دے، کیونکہ اے آئی کا غلط استعمال معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔