LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک کے سی ای او کی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اہم پیشگوئی

News Image
ٹک ٹاک کے سی ای او شو زی چو نے پیشگوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت اگلے تین برسوں کے اندر اہم سائنسی کامیابیاں حاصل کی جا سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو اس بات کو سمجھے بغیر استعمال کر رہے ہیں کہ وہ دراصل کیسے کام کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شو زی چو نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ٹیکنالوجی میں اتنی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے کہ آنے والے تین سالوں کے اندر اندر بڑے پیمانے پر سائنسی کامیابیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ ان کا یہ بیان دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے جاری مباحثوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ سی بی این سی اور دیگر معتبر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق شو زی چو نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اگرچہ اے آئی پر مبنی ویڈیوز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس میں جدید ترین تبدیلیاں آ رہی ہیں، تاہم ناظرین اب بھی مستند، حقیقی اور جینوئن مواد کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کتنے ہی جدید کیوں نہ ہو جائیں، انسانی عنصر اور اصلیت کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کے علاوہ، مائیکروسافٹ کے اعلیٰ حکام اور ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پائی جانے والی ضرورت سے زیادہ ہائپ اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ شو زی چو کا مزید کہنا تھا کہ لوگ اس وقت مختلف اے آئی ایجنٹس کو اندھا دھند استعمال کر رہے ہیں جبکہ وہ اس بنیادی میکانزم سے ناواقف ہیں کہ یہ سسٹمز پس پردہ کس طرح کام کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔