LIVE
Loading Breaking News...

ملائیشیا میں پام آئل کے ذخائر میں بڑا اضافہ، ستمبر کی رپورٹ جاری

News Image
ملائیشیا میں ستمبر کے مہینے میں پام آئل کے کل ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ ذخائر 35 لاکھ ٹن تک پہنچ گئے ہیں۔ اس اضافے سے بین الاقوامی مارکیٹ اور تجارتی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کوالمپور: ملائیشیا میں زراعت اور تیل کی پیداوار کے شعبے سے متعلق جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے دوران ملک کے کل پام آئل کے ذخائر میں نمایاں اور غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق پام آئل کے ذخائر میں 24.54 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ مجموعی ذخائر 35 لاکھ ٹن یعنی 3.51 ملین ٹن کی سطح تک جا پہنچے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پیداوار میں اضافے اور عالمی منڈی کی طلب و رسد میں تبدیلیوں کی وجہ سے ان ذخائر میں یہ تیزی آئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ پام آئل کے یہ بڑھتے ہوئے ذخائر آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر اس خوردنی تیل کی قیمتوں اور تجارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی منڈی میں دیگر خوردنی تیلوں بالخصوص سُوا آئل اور خام تیل کی کمزور کارکردگی نے پام آئل کی قیمتوں میں ہونے والے مزید اضافے کو محدود کر دیا ہے، تاہم اولئین کی مضبوط پوزیشن کی وجہ سے پام آئل نے کاروباری سیشن کا آغاز نسبتاً بہتر انداز میں کیا۔ دوسری جانب، علاقائی سطح پر زرعی اور معاشی حالات بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایل نینو (El Nino) کے ممکنہ اثرات کی وجہ سے بھارت میں خوردنی تیل کی پیداوار میں 5 سے 10 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی کے رجحانات میں ہلچل مچنے کا امکان ہے۔ مالیاتی اور تجارتی تجزیہ کار آر ایچ بی (RHB) کا کہنا ہے کہ خام پام آئل (CPO) کی قیمتیں آنے والے وقت میں مزید کم ہو کر 4,500 رنگٹ تک آ سکتی ہیں۔ اس کے باوجود، طویل المدتی تناظر میں ملائیشیا کا پلانٹیشن سیکٹر سال 2027 تک بہتر قیمتوں اور مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔