LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات، وزیراعظم کا اہم بیان

News Image
برطانوی وزیراعظم ہاؤس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدے کی اہمیت پر زور دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی ہاؤس آف کامنز سے اپنے اہم خطاب میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نئی پالیسی کا دفاع کریں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اس بات پر زور دیں گے کہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات کو مسترد کرنا ملکی مفاد کے خلاف اور فرض سے غفلت کے مترادف ہوگا۔ حکومت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ یورپ کے ساتھ تعاون کے دروازے بند کرنے سے برطانیہ کے اقتصادی اور سکیورٹی امور متاثر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس خطاب میں وزیراعظم اس بات کو اجاگر کریں گے کہ یورپی یونین کے ساتھ ایک نئے اور بہتر معاہدے کے ذریعے برطانیہ کو کس طرح ٹھوس فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان فوائد میں سب سے اہم غیر قانونی تارکین وطن کے گھمبیر مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔ برطانوی حکومت طویل عرصے سے اس بات کی خواہاں ہے کہ سرحدوں کی سکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے اور اس مقصد کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس اور بارڈر کنٹرول کے معاملات پر اشتراک کار کو بڑھایا جانا ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، اس مجوزہ تعلق کا دوسرا اہم ترین پہلو ملکی معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ برطانوی معیشت کو حالیہ برسوں میں سست روی اور مہنگائی جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، اور تجارتی حلقے بھی یورپی یونین کے ساتھ رکاوٹوں کو کم کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ یورپی منڈیوں تک بہتر رسائی اور تجارتی معاہدوں کی تجدید سے برطانوی کاروبار کو فروغ ملے گا، جس سے بالآخر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔ یہ سیاسی بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی سیاست میں یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کی نوعیت پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ ناقدین کی طرف سے مخالفت کے باوجود، موجودہ حکومت یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ عملیت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ برطانوی مفادات کے تحت یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کی راہیں نکالی جائیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔