World
بورنیو جنگلات: اورنگ اوتان کا خاندان بحفاظت جنگل میں واپس
انتہائی خطرے سے دوچار اورنگ اوتان کے خاندان کو شدید جنگلاتی آگ سے بچانے کے بعد دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ جانور اگست اور ستمبر میں لگنے والی ہولناک آگ کے باعث اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہو گئے تھے۔
انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو میں انتہائی خطرے سے دوچار اورنگ اوتان کے ایک خاندان کو بحفاظت ان کے قدرتی مسکن یعنی جنگل میں واپس چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان نایاب اور خوبصورت جانوروں کو حال ہی میں بورنیو کے جنگلات میں لگنے والی شدید اور ہولناک آگ کے دوران کامیابی کے ساتھ بچایا گیا تھا، جس نے ان کے قدرتی مسکن کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا تھا۔ یہ افسوسناک واقعات اگست اور ستمبر کے مہینوں میں پیش آئے جب جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نے حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچایا۔
محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے فلاحی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان بے زبان جانوروں کو آگ کے خطرے سے دور منتقل کیا تھا۔ ریسکیو کیے جانے کے بعد ان اورنگ اوتان کو ماہرین کی نگرانی میں رکھا گیا جہاں ان کی طبی جانچ کی گئی اور دیکھ بھال کا عمل مکمل کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اب حالات بہتر ہونے اور ان کی صحت مکمل بحال ہونے کے بعد، ان تمام اورنگ اوتان کو دوبارہ ان کے اصل جنگلی ماحول میں چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بورنیو کے جنگلات میں لگنے والی یہ آگ اس خطے کے نازک ایکو سسٹم اور نایاب جنگلی حیات کے لیے ایک بہت بڑا المیہ تھی۔ اورنگ اوتان پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار نسلوں میں شمار ہوتے ہیں اور اس طرح کے حادثات ان کی بقا کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں۔ اس کامیاب واپسی نے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور تحفظِ ماحولیات کے حامیوں کو امید کی ایک نئی کرن دی ہے، تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔