World
یارکشائر وائلڈ لائف پارک ٹائیگر حملہ کے بعد بند
یارکشائر وائلڈ لائف پارک کو ایک شخص پر ٹائیگر کے ہلاک کن حملے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت مسلسل تیسرے روز بھی بند رکھا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس المناک حادثے کے وقت حفاظتی پروٹوکول میں کیا کوتاہی پیش آئی تھی۔
برطانیہ کا مشہور یارکشائر وائلڈ لائف پارک ایک افسوسناک واقعے کے بعد مسلسل تیسرے روز بھی عوام کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ ہفتے کے روز اس پارک کے اندر پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں ایک شخص ٹائیگر کے حملے کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا تھا۔ اس اچانک اور ہولناک واقعے کے بعد پارک کی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے فوری طور پر ایمرجنسی پروٹوکول نافذ کرتے ہوئے سیاحت کے لیے آنے والے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور پارک کو تاحکمِ ثانی بند کر دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زائرین اور عملے کی سرفہرست حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک مکمل تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، پارک کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور وائلڈ لائف کے ماہرین کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تحقیقات کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی حفاظتی ایس او پی کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا یا پھر احاطے میں موجود حفاظتی باڑ یا پنجروں کے نظام میں کوئی تکنیکی خامی پائی جاتی تھی۔ اس حادثے نے پوری وائلڈ لائف انڈسٹری میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور جانوروں بالخصوص خونخوار جنگلی جانوروں کو رکھنے کے حوالے سے حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ یارکشائر وائلڈ لائف پارک کی انتظامیہ نے متوفی کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے جبکہ ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے کسی بھی دلخراش واقعے سے بچا جا سکے۔