World
رومان ابراموچ کے اثاثے چھپانے کا راز فاش، برطانوی میڈیا کی رپورٹ
بی بی سی پینوراما اور بیورو آف انویسٹی گیشن جرنلزم کی نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روسی ارب پتی رومان ابراموچ نے اپنے مالیاتی اثاثے چھپانے کے لیے کس طرح اپنے مشیروں کی خدمات حاصل کیں۔ اس عمل میں معروف فرم ڈیلوئٹ کی جانب سے مبینہ مدد فراہم کیے جانے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام پینوراما اور بیورو آف انویسٹی گیشن جرنلزم نے ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں اس امر کا پردہ فاش کیا ہے کہ کس طرح روسی ارب پتی رومان ابراموچ نے اپنے اثاثے دنیا اور بالخصوص مغربی حکام کی نظروں سے اوجھل رکھے۔ اس تحقیقاتی عمل کے دوران حاصل ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ رومان ابراموچ کے مالیاتی مشیروں نے ان کی دولت کو خفیہ رکھنے اور اس کی منتقلی کے لیے انتہائی پیچیدہ راستے تلاش کیے۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح بین الاقوامی مالیاتی نیٹ ورکس اور پیشہ ورانہ خدمات کا استعمال کرتے ہوئے پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق، اس سارے عمل میں عالمی سطح پر جانی مانی فرم ڈیلوئٹ (Deloitte) کے کردار کو بھی مرکزِ نگاہ بنایا گیا ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ فرم کے ماہرین نے مبینہ طور پر رومان ابراموچ کو ان کے اثاثوں کی تنظیم نو اور ان کے تحفظ کے لیے مختلف قانونی اور مالیاتی مشورے فراہم کیے۔ اگرچہ اس نوعیت کی کارروائیاں عموماً پیچیدہ مالیاتی ڈھانچے کے اندر قانونی دائرے میں کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں، تاہم حالیہ عالمی پابندیوں اور سخت جانچ پڑتال کے بعد ان طریقوں پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بی بی سی کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کس طرح دنیا کے امیر ترین افراد اپنی دولت کو چھپانے کے لیے مالیاتی ماہرین اور شیل کمپنیوں کا جال استعمال کرتے ہیں۔
رومان ابراموچ کا شمار دنیا کے جانے مانے اور با اثر ترین روسی تاجروں میں ہوتا ہے جن کے پاس ماضی میں انگلینڈ کے مشہور فٹ بال کلب چیلسی کی ملکیت بھی رہی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں سیاسی حالات اور یوکرین تنازع کے بعد ان پر مغربی ممالک کی طرف سے سخت پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ان کی دولت کو منجمد کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ اس پس منظر میں، نئی تحقیقات کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح با اثر شخصیات پابندیوں کے اعلان سے پہلے ہی اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کرتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس انکشاف کے بعد اب مالیاتی اداروں اور مشاورتی فرموں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا تاکہ وہ اپنے کلائنٹس کی شفافیت کو یقینی بنائیں۔