LIVE
Loading Breaking News...

خراب روشنی کے قوانین اور کرکٹ: جنوبی افریقہ آسٹریلیا ٹیسٹ کا جائزہ

News Image
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران خراب روشنی کی وجہ سے ساٹھ سے زائد اوورز ضائع ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر کرکٹ شائقین اور ماہرین کے درمیان قوانین پر نئی بحث چھڑ دی ہے۔
جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران خراب روشنی کا مسئلہ ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ساٹھ سے زائد قیمتی اوورز ضائع ہو چکے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کے باوجود ٹیمیں اور کرکٹ بورڈز اس بات پر متفق نہیں ہو پا رہے ہیں کہ خراب روشنی کی صورت میں کھیل کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے۔ اس تازہ ترین واقعے نے کھیل کے نگران اداروں کی کارکردگی اور موجودہ قوانین کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کے مسائل کئی بار سامنے آ چکے ہیں جہاں امپائرز کو روشنی کم ہونے کی بنیاد پر کھیل معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا طویل فارمیٹ پہلے ہی سے شائقین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے، اور اگر اس طرح قیمتی وقت ضائع ہوتا رہا تو کھیل کے معیار اور اس کے تجارتی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حالانکہ فلڈ لائٹس کے استعمال اور پنک بال کرکٹ جیسی سہولتیں موجود ہیں، لیکن روایتی ریڈ بال ٹیسٹ میچوں میں یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔ آئی سی سی نے اس معاملے میں بہتری لانے کے لیے کچھ اقدامات کیے تھے، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار اور صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تبدیلیاں کافی ثابت نہیں ہوئیں۔ کرکٹ کے حامیوں کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور لائٹنگ کے بہتر انتظامات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تمام بورڈز باہمی اتفاق رائے سے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا کرکٹ انتظامیہ اس صورتحال سے سبق سیکھتی ہے یا آنے والے میچوں میں بھی شائقین کو اسی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔