LIVE
Loading Breaking News...

کینیا میں پولیس فائرنگ: بی بی سی کی نئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی

News Image
بی بی سی افریقہ آئی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کینیا کے سابق وزیراعظم کے جنازے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کسی بھی پرتشدد کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔ تجزیہ کیے گئے ڈیڑھ ہزار سے زائد ویڈیوز اور تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ افراد جھگڑے کی جگہ سے کافی دور تھے۔
کینیا کے سابق وزیراعظم ریلا اوڈنگا کی یادگاری تقریب اور قومی الوداعی اجتماع کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے حوالے سے ایک اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے تحقیقاتی یونٹ 'افریقہ آئی' کی جانب سے کی جانے والی ایک گہرائی سے چھان بین میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے افراد کسی بھی قسم کے ہنگاموں یا پرتشدد مظاہروں کا حصہ نہیں تھے۔ اس سانحے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور سکیورٹی فورسز کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تحقیقات کے دوران بی بی سی کے صحافیوں اور ڈیجیٹل فارنزک ماہرین نے واقعے سے جڑی تقریباََ پندرہ سو ویڈیوز اور تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان تمام شواہد اور ڈیجیٹل مواد کے سائنسی تجزیے سے یہ واضح ہوا کہ جن شہریوں کو پولیس کی کارروائی میں ہلاک کیا گیا، وہ اصل جھگڑوں اور پرتشدد تصادم کے مقامات سے میلوں دور موجود تھے۔ یہ لوگ محض اپنے محبوب رہنما کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے اور پرامن انداز میں تقریب کا حصہ بنے ہوئے تھے، جس سے پولیس کے اس دعوے کو سخت دھچکا لگا ہے کہ انہوں نے صرف مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اس واقعے کے بعد سے کینیا کے سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور عوام کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف آزادانہ اور شفاف عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی پولیس کی جانب سے طاقت کے اس بے دریغ اور مبینہ طور پر غیر ضروری استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو جائے گا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ذمہ داران کا کٹہرے میں لایا جا سکے۔