LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی اپوزیشن کا الیکشن چیف کے خلاف سپریم کورٹ تک مارچ

News Image
بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نئی دہلی میں ویک اینڈ پر ہونے والے ہنگاموں اور پولیس کی جانب سے ہزاروں مظاہرین کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کے الیکشن چیف کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک ایک احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم قدم دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتے کے آخر میں رونما ہونے والے انتہائی کشیدہ اور ہنگامہ خیز واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جہاں حکومتی پالیسیوں اور انتخابی امور کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں پرامن مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق دارالحکومت دہلی کے مختلف مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت گیر اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں سیاسی ماحول شدید گرم ہو چکا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں اور موجودہ الیکشن چیف غیر جانبدار رہنے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذا ان کا استعفیٰ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اب اپوزیشن اتحاد نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے اور سپریم کورٹ کے رُخ پر ایک مؤثر مارچ کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سیاسی کشمکش اور احتجاجی لہر سے ملک میں سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ممکن آئینی اور سیاسی حربہ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں نے ان احتجاجی مظاہروں اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانون و ضابطے کی بالادستی پر زور دیا ہے، تاہم سپریم کورٹ تک مارچ کے اس اعلان سے ملک کا سیاسی پارہ مزید بلند ہو گیا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید سیاسی ہلچل متوقع ہے۔