LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں کا انکشاف

News Image
مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹیکنالوجی نے سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے انیس ہزار کے قریب چونکا دینے والے کیسز کا سراغ لگا لیا ہے۔ کیمروں میں قید ہونے والی تصاویر میں خطرناک مناظر سامنے آئے ہیں جن میں عدم توجہی اور حفاظتی اقدامات کی کمی واضح ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے نظام نے ٹریفک قوانین کے نفاذ اور نگرانی کے شعبے میں ایک اور بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اے آئی سسٹمز کی مدد سے سڑکوں پر ٹریفک کی خطرناک اور حیران کن خلاف ورزیوں کے تقریباً انیس ہزار کیسز کا کامیابی سے سراغ لگایا گیا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی نے روڈ سیفٹی کے اداروں کو قانون شکنی کرنے والوں کی نشاندہی کرنے میں انتہائی مدد فراہم کی ہے، جس سے سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کو روکنے میں مدد ملے گی۔ حاصل ہونے والی تصاویر اور ڈیجیٹل شواہد میں انتہائی تشویشناک اور خطرناک مناظر کیمرے کی آنکھ نے قید کیے ہیں۔ ان میں سے ایک انتہائی خطرناک منظر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی مسافر خاتون کا ہے جس نے اپنی گود میں ایک چھوٹے سے بچے کو بغیر کسی سیٹ بیلٹ کے بٹھا رکھا تھا۔ ٹریفک ماہرین کے مطابق اس طرح کی لاپرواہی نہ صرف قانونی جرم ہے بلکہ یہ کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں معصوم بچوں کی جان کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے، جسے اب جدید کیمرے باآسانی پکڑ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ سسٹمز بغیر کسی انسانی تاخیر کے سڑکوں پر موجود گاڑیوں کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنے، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال اور دیگر خطرناک حرکات کو فوری طور پر ڈیٹیکٹ کر لیتے ہیں۔ ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی کے اس استعمال سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بچ نکلنے کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور اب ہر چھوٹی بڑی غلطی ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہے۔ * ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے خودکار نظاموں کے نفاذ سے ڈرائیوروں میں قانون کا احترام بڑھ رہا ہے اور وہ روڈ سیفٹی کے اصولوں کو سنجیدہ لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے تاکہ سڑکوں کو عام شہریوں اور بچوں کے لیے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے اور حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔