LIVE
Loading Breaking News...

نئی دہلی میں الیکشن چیف کے خلاف احتجاج اور کریک ڈاؤن

News Image
نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی طرف سے الیکشن چیف کے خلاف احتجاجی مظاہرے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر شدید نعرے بازی کی۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے جہاں اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور مختلف طلبہ تنظیموں نے الیکشن چیف کے متنازعہ فیصلوں اور اقدامات کے خلاف احتجاجی تحریک کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن اور سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجود مظاہرین شہر کے مختلف حصوں میں اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور فلیش مارچز نکالے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے باعث شہر کے کئی اہم حصوں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور معمولاتِ زندگی عارضی طور پر معطل ہو کر رہ گئے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر فوری نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اقدار کو بچانے کے لیے پُرامن احتجاج ان کا بنیادی حق ہے جسے حکومتی ہتھکنڈوں یا پولیس کریک ڈاؤن کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے دارالحکومت میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے اور املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے قانون کے مطابق کارعمل جاری رکھا جائے گا، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف یہ بڑھتا ہوا عوامی دباؤ آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔