World
روسی اسکولوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کی تعلیم کا آغاز
روس نے اپنے قومی نصاب میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں بچوں کو ڈرون بنانے اور اڑانے کی تربیت دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتوں سے لیس کرنا ہے۔
ماسکو: روس کے تعلیمی نظام میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی کے تحت ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کو ڈرون بنانے اور انہیں ہوا میں اڑانے کی عملی تربیت دینے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا اقدام روسی قومی نصاب کی اصلاحات کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد طالب علموں کو ابتدائی عمر سے ہی جدید دور کی تکنیکی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس تعلیمی پروگرام کے تحت طلباء کو نہ صرف ڈرون کے تکنیکی بنیادی اصول سکھائے جائیں گے بلکہ عملی طور پر ان کے پرزے جوڑنے اور انہیں کنٹرول کرنے کی مہارت بھی فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق، اس نصابی تبدیلی سے بچوں میں انجینئرنگ، روبوٹکس اور سائنسی علوم میں دلچسپی بڑھے گی۔ موجودہ دور میں ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور مختلف شعبوں میں اس کے وسیع استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکولوں میں اس تربیت کے لیے خصوصی اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور طلباء کو جدید آلات فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اس پیچیدہ ٹیکنالوجی کو باآسانی سمجھ سکیں۔ اس اقدام کو ملکی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مستقبل کے ماہرین تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی کی تعلیم اب ایک لازمی ضرورت بن چکی ہے اور اس طرح کے عملی اقدامات سے طلبا کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ روس کا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام کو عالمی رجحانات کے مطابق ڈھالنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس پروگرام کے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے تاکہ ملک کے کونے کونے تک کے بچوں کو اس جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مل سکے۔