LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں فاقہ کشی کا بحران، ماؤں کی طویل قطاریں اور غذائی قلت

News Image
غزہ میں شدید خوراک کی کمی کے باعث چودہ لاکھ سے زائد افراد کو سنگین فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ امدادی سامان ناکافی ہونے کی وجہ سے مائیں اپنے بچوں کے لیے خوراک کے حصول کی خاطر طویل اور کٹھن قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے محاصرہ زدہ خطے غزہ میں فاقہ کشی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں جہاں چودہ لاکھ سے زائد افراد شدید خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ بنیادی ضروریات زندگی اور امدادی سامان کی انتہائی ناکافی فراہمی نے عام شہریوں بالخصوص ماؤں کی زندگی کو انتہائی کٹھن بنا دیا ہے۔ خوراک اور بنیادی اشیائے ضرورت کے حصول کے لیے ہر روز ہزاروں مائیں اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ غزہ میں جاری اس انسانی بحران نے بین الاقوامی برداری اور امدادی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں کیونکہ امدادی ٹرکوں کی آمد ضرورت کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق غزہ کے اکثر علاقوں میں غذائی قلت اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں بچوں اور خواتین کی صحت کو شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔ طبی ماہرین اور امدادی کارکنان مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر خوراک، صاف پانی اور ادویات کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی نہ بنایا گیا تو صورتحال مزید تباہ کن ہو جائے گی۔ ادھر عالمی اداروں کی جانب سے امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر متاثرہ خاندانوں کے لیے صورتحال بدستور جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ غزا کی مائیں اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھنے پر مجبور ہیں اور امداد کے حصول کے لیے روزانہ کی بنیاد پر طویل اور صبر آزما انتظار ان کا مقصدر بن چکا ہے۔