Pakistan
لطیف اکبر کا مسلم لیگ ن کے کارکنان پر حملہ کا الزام، آزاد کشمیر انتخابات
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوران قائم مقام صدر لطیف اکبر نے مسلم لیگ ن کے کارکنان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں جاری انتخابی سرگرمیوں کے دوران سیاسی کشیدگی میں اس وقت نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جب آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر لطیف اکبر نے مسلم لیگ ن کے کارکنان پر براہ راست سنگین الزامات عائد کیے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس کشیدہ صورتحال نے خطے کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے۔ لطیف اکبر کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران ان کے قافلے اور حامیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ ان کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کیا جا سکے اور ووٹرز میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے مشتعل کارکنان نے نہ صرف ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی کی بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بھی خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے جمہوریت اور پرامن انتخابات کے بنیادی اصولوں کی نفی کرتے ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ بھی شفاف اور منصفانہ ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، اس الزام کے سامنے آنے کے بعد مقامی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں کے درمیان اس نوعیت کے تنازعات اور الزامات کا سلسلہ جمہوری عمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اس واقعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ آنے والے دنوں میں امن و امان کی صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکے اور ووٹرز بلا کسی خوف و خطر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔