LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی قیادت کی تبدیلی اور فلسطینیوں کا مستقبل: تجزیہ

News Image
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں موجودہ قیادت کی تبدیلی سے غزہ اور مغربی کنارے کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ مبصرین کے مطابق اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں معمولی فرق آ سکتا ہے لیکن فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے بنیادی رویہ وہی رہے گا۔
عالمی امور کے ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس سوال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاهو کے اقتدار سے ہٹنے پر فلسطینیوں کے لیے حالات میں کوئی حقیقی اور مثبت تبدیلی آ سکتی ہے یا نہیں۔ حالیہ مباحثوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ نیتن یاهو کے سیاسی مخالفین انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں میں کوئی بنیادی یا انقلابی تبدیلی رونما ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی سیاسی اسپیکٹرم میں فلسطینی کاز اور ریاستی خودمختاری کے بارے میں عمومی اتفاق رائے ایک مخصوص جارحانہ سوچ کے گرد گھومتا ہے۔ اگرچہ حزب اختلاف کے رہنما نیتن یاهو کی بعض ذاتی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی پر سخت تنقید کرتے ہیں، لیکن جب بات سکیورٹی، مقبوضہ علاقوں پر کنٹرول اور فلسطینی ریاست کے قیام کی آتی ہے تو ان کے مؤقف میں کوئی نمایاں یا واضح فرق نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف قیادت کی تبدیلی کو فلسطینیوں کے لیے ایک نئے اور منصفانہ دور کا آغاز سمجھنا خام خیالی ہوگی۔ دوسری جانب، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی عوام بھی اس سیاسی تبدیلی سے کسی بڑے معجزے کی توقع نہیں رکھتے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فوجی محاصرہ، بستیوں کی توسیع اور روزمرہ کی پابندیاں ایسی حقیقتیں ہیں جو کسی بھی حکومت کے آنے جانے سے راتوں رات تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ فلسطینی رہنماؤں کا بھی یہی مو مؤقف رہا ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری اسرائیل پر حقیقی دباؤ نہیں ڈالتی اور منصفانہ حل کی طرف عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تب تک اسرائیل کے اندرونی سیاسی اتھل پتھل سے مظلوم فلسطینیوں کے مصائب میں کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ خلاصہ یہ کہ نیتن یاهو کا سیاسی مستقبل چاہے کچھ بھی ہو، فلسطینیوں کے لیے جنگ زدہ اور کٹھن حالات کا خاتمہ صرف اور صرف ایک عادلانہ بین الاقوامی حل اور دیرپا امن معاہدے سے ہی مشروط ہے۔ محض چہروں کی تبدیلی سے پالیسیوں کی سمت تبدیل نہیں ہوتی، اور جب تک قابض ریاست کے رویے میں فکری تبدیلی نہیں آتی، اس خطے میں حقیقی امن کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔