Politics
بھارت: کانگریس پارٹی کا سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ، الیکشن کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ
بھارت میں مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کا مقصد حالیہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹوں کی چوری کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹوں کی چوری کے سنگین الزامات کے تحت ملک بھر میں احتجاجی تحریک تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں اپوزیشن کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ تک ایک بڑے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا پرزور مطالبہ کرنا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حالیہ انتخابی عمل کے دوران شفافیت کو بری طرح متاثر کیا گیا اور ووٹرز کے حقوق سلب کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق کانگریس پارٹی کی قیادت نے تمام ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر اس مارچ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن جیسی آئینی اور خودمختار اتھاریٹیز کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور عوام کا ان اداروں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ احتجاجی مظاہرین کا یہ قافلہ دارالحکومت کے اہم راستوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ کے باہر اختتام پزیر ہوگا، جہاں اعلیٰ عدالت کے نام ایک باضابطہ یادداشت بھی جمع کروائی جائے گی جس میں انتخابی عمل کی عدالتی نگرانی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کی طرف سے اپوزیشن کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک مکمل طور پر خودمختار ادارہ ہے اور اپوزیشن اپنی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسے بے بنیاد ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ حکومتی نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عدلیہ اور آئینی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس احتجاجی مارچ کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گا اور آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر سکتی ہے۔