World
سعودی عرب کا سفر: حوثی حملوں کے بعد اہم ممالک کی سفری وارننگ
امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان سمیت کئی ممالک نے حوثی حملوں کے پیش نظر اپنے شہریوں کو سعودی عرب کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومتوں کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں اور خطے میں پیدا ہونے والی سکیورٹی کی کشیدہ صورتحال کے بعد دنیا کے کئی اہم ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ ان ممالک میں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ جیسے سرفہرست ممالک شامل ہیں جنہوں نے اپنی سفری ایڈوائزری کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ ان مغربی اور ایشیائی حکومتوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سعودی عرب کے اندرونی علاقوں بالخصوص حساس تنصیبات کے قریب جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات تاحال برقرار ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ اور متعلقہ محکموں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سعودی عرب کا غیر ضروری سفر منسوخ کر دیں اور جو شہری پہلے ہی وہاں موجود ہیں وہ انتہائی احتیاط برتیں اور سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سکیورٹی کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ تاہم، سفری پابندیوں اور وارننگز کے اس نئے سلسلے نے بین الاقوامی سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو عارضی طور پر متاثر کیا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اب خطے کی سکیورٹی صورتحال پر لگی ہوئی ہیں۔