LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا منصوبہ اور سیاسی بحران

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے منصوبے پر امریکی قانون سازوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس فیصلے پر امریکی سیاست میں سخت ردعمل دیکھا جا رہا ہے اور قانون سازوں نے اس ڈیل پر کڑی تنقید کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق پوتن اور ٹرمپ کے درمیان اس مبینہ فیول ڈیل کے خدوخال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اسے عالمی سطح پر بھی حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے کچھ قانون ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ روسی توانائی پر انحصار بڑھانا امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکی کانگریس میں اس معاملے پر مزید بحث اور تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس معاہدے کے کیا مضمرات ہوں گے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین پر تیل تنصیبات کے حملوں کے تناظر میں بھی ٹرمپ کے بیانات اور پالیسیاں زیر بحث ہیں۔ یوکرین کے ساتھ جاری کشیدگی اور روس کے ساتھ اس مبینہ اقتصادی تعاون کو امریکی سیاسی حلقوں میں دوہرے معیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے بلکہ داخلی محاذ پر بھی صدر ٹرمپ کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مزید ہنگامہ آرائی متوقع ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں اس ڈیل کو روکنے کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں۔