LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کی افغان مہاجرین کی ملک بدری اور طالبان کی حکمت عملی

News Image
یورپی ممالک افغان مہاجرین کی ملک بدری کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان اس صورتحال کو سفارتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان حکومت یورپی ممالک میں پناہ کے خواہاں افغان شہریوں کی ملک بدری کے حوالے سے پائے جانے والے خوف اور خدشات کو اپنے سیاسی اور سفارتی فوائد کے لیے مہارت سے استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت کئی بڑے یورپی ممالک نے افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے عملی اقدامات پر غور شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کابل انتظامیہ کے ساتھ رابطے بھی کیے گئے ہیں۔ یورپی حکومتوں کے اندر مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش پائی جاتی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان دنیا سے اپنے ساتھ سفارتی سطح پر زیادہ رسمی تعلقات قائم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فرانس اور جرمنی کی جانب سے افغان شہریوں کی ملک بدری کے معاملات پر تکنیکی نوعیت کی بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی ریاستیں اپنی داخلی سیاسی مجبوریوں کے تحت طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا شکار رہنے والی طالبان حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک سنہری موقع کی مانند ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وہ اپنی بین الاقوامی حیثیت کو منوانے اور سفارتی تنہائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپ میں مہاجرین مخالف سیاسی لہر اور دائیں بازو کی جماعتوں کے دباؤ کے باعث یورپی رہنما اس بات کے خواہاں ہیں کہ مسترد شدہ پناہ گزینوں کو جلد از جلد واپس بھیجا جائے، چاہے اس کے لیے انہیں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ ہی میز پر کیوں نہ بیٹھنا پڑے۔ اس پورے تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کی اندرونی سیاسی مجبوریاں طالبان کو ایک ایسا سفارتی حربہ فراہم کر رہی ہیں جسے وہ اپنی حکومت کی تسلیم شدگی اور دیگر مراعات کے حصول کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے کیونکہ یورپی دارالحکومتوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔