LIVE
Loading Breaking News...

ایران کے جوہری مذاکرات، امریکہ کے ساتھ رابطے اور نئی شرائط

News Image
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ تہران اس وقت امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والے تجاویز اور جوابات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
تہران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن اس عمل کے دوران ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران کبھی بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی 'اسکوائر ون' پر واپس جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کو حال ہی میں امریکہ کی جانب سے خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق ایک تجویز کا جواب موصول ہوا ہے، جس کا تہران میں اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس جواب کا تفصیلی اور جامع جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی باضابطہ ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ اس سے قبل تہران نے امریکی ردعمل کو ناکافی قرار دیا تھا، تاہم سفارتی سطح پر رابطے اب بھی برقرار ہیں۔ ایرانی میڈیا اور سرکاری شخصیات کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تہران کی پالیسی انتہائی واضح اور دوٹوک ہے۔ ماضی میں بھی بڑی طاقتیں ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی میں ناکام رہی ہیں اور موجودہ حالات میں بھی تہران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی حکومت کا اصرار ہے کہ مذاکرات تب ہی سودمند ہو سکتے ہیں جب دوسری طرف سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور ایرانی مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بالواسطہ مذاکرات کی بحالی خطے کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان بدتمیزی اور بداعتمادی کی فضا اب بھی برقرار ہے، تاہم دونوں جانب سے سفارتی چینلز کو کھلا رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین کسی بڑی محاذ آرائی سے بچنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کی جانب سے جائزے کی تکمیل کے بعد امریکہ کو کیا جواب دیا جاتا ہے اور آیا اس سے تعطل کا شکار جوہری معاہدے کی بحالی کی کوئی نئی راہ نکلتی ہے یا نہیں۔