Business
آر بی آئی کے نئے اقدامات سے بھارتی روپے میں تیزی اور بانڈز کا جائزہ
بھارتی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے اقدامات کی وجہ سے روپے کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک کی مداخلت سے کرنسی کو استحکام ملے گا جبکہ بانڈز مارکیٹ کی نظریں مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار پر ہیں۔
بھارتی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے اٹھائے گئے نئے اور سخت اقدامات کے نتیجے میں بھارتی روپے کی قدر میں پچھلے چھ ماہ کی سب سے بڑی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مرکزی بینک کی اس مداخلت اور مارکیٹ ضوابط میں تبدیلیوں نے سرمایہ کاروں کو ایک نیا حوصلہ فراہم کیا ہے، جس سے طویل عرصے سے دباؤ کا شکار کرنسی کو سہارا ملا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، مرکزی بینک کی یہ حکمت عملی غیر ملکی کرنسی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور ڈالر کی طلب کو کم کرنے میں انتہائی سودمند ثابت ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق آر بی آئی نے روپے کے ڈیریویٹوز کے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے اور ڈالر کے لین دین کی حد کو کم کر کے پانچ ملین ڈالر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کی طرف سے او ایم سیز (OMCs) کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی فاریکس ونڈو ماہانہ بنیادوں پر دس سے بارہ ارب ڈالر تک کی ڈالر طلب کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کا دباؤ کم ہوگا اور روپے کی قدر میں استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب، بانڈ مارکیٹ کے شرکاء اور سرمایہ کار اب آنے والے مہنگائی کے اعداد و شمار کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی یہ نئی رپورٹس سود کی شرح کے مستقبل کے فیصلوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے اعداد و شمار توقعات کے مطابق بہتر رہے تو اس سے نہ صرف بانڈ مارکیٹ کو تقویت ملے گی بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت اور کرنسی مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان برقرار رہے گا، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔