Sports
فیفا کی 4.2 ارب ڈالر کی پرائیویٹ ایکویٹی ڈیل منسوخ، کھیلوں کی مالیات پر سوالات
بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) نے یوئیفا کی جانب سے شدید بائیکاٹ کی دھمکیوں کے بعد 4.2 ارب ڈالر مالیت کی متنازعہ پرائیویٹ ایکویٹی ڈیل کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی کھیلوں کی مالیاتی مارکیٹ اور مستقبل کے سرمایہ کاری کے ماڈلز پر اہم سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب اسے یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز کے اتحاد یعنی یوئیفا کی جانب سے سخت بائیکاٹ کی دھمکیوں کے پیش نظر 4.2 ارب ڈالر مالیت کی ایک بڑی پرائیویٹ ایکویٹی ڈیل کو باضابطہ طور پر ختم کرنا پڑا۔ اس فیصلے نے کھیلوں کی صنعت میں روایتی انتظامی کنٹرول اور بیرونی سرمایہ کاری کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ فٹ بال کے روایتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا یا اس میں نجی سرمائے کو شامل کرنا کتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس مجوزہ ڈیل کا مقصد فیفا کے تجارتی اور مالیاتی ڈھانچے کو وسعت دینا تھا، تاہم یوئیفا اور دیگر اہم یورپی اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ناقدین اور یوئیفا کا مؤقف تھا کہ اس نوعیت کی بیرونی سرمایہ کاری اور نجی ایکویٹی کا دخول کھیل کے بنیادی ڈھانچے، شفافیت اور روایتی اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بائیکاٹ کی دھمکی ملنے کے بعد فیفا انتظامیہ شدید دباؤ میں آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں بالآخر اس اربوں ڈالر کے معاہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس ڈیل کی منسوخی کے بعد اب عالمی کھیلوں کی مالیات کے مستقبل پر گہرے سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ کھیل کی دنیا میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا فیفا اور دیگر بڑی فیڈریشنیں اپنے مالی وسائل بڑھانے کے لیے مستقبل میں نجی سرمائے پر انحصار کر سکیں گی یا نہیں۔ روایتی فٹ بال طاقتیں نہیں چاہتیں کہ کھیل کے تجارتی حقوق پر بیرونی کارپوریشنز یا نجی ایکویٹی فنڈز کا اثر و رسوخ بڑھے، جو کہ آنے والے دنوں میں کھیلوں کی پالیسیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔