LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سعودی عرب پر حملہ

News Image
سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر تازہ حملے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس واقعے اور توانائی کی سپلائی سے متعلق دیگر بین الاقوامی خبروں نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر ہونے والا تازہ حملہ ہے۔ اس واقعے کے بعد سرمایہ کاروں میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اس تازہ صورتحال نے مارکیٹ کے پرانے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس حملے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 106 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اہم تنصیبات پر اس طرح کے حملے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو متاثر کرتے ہیں، جس کا فوری اثر مارکیٹ کے رجحانات پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ روس نے توانائی کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس نے سونے اور تیل جیسی کموڈیٹیز کی مارکیٹ میں مزید ہلچل مچا دی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈیزل سے متعلق بیانات اور عالمی توانائی کی پالیسیوں پر مباحث نے بھی مارکیٹ کے شرکاء کو تذبذب کا شکار کر رکھا ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں تیل کی عالمی مارکیٹ کا مرکزِ نگاہ اب مشرقی منڈیوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور توانائی کے بحران کا خدشہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔