LIVE
Loading Breaking News...

کیلی کلارکسن اور دیگر ستارے: شاپنگ کے دوران بدسلوکی کے انکشافات

News Image
مشہور امریکی گلوکارہ کیلی کلارکسن نے نیویارک کے ایک دکان پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر کھل کر تنقید کی ہے۔ اس واقعے کے بعد شاپنگ کے دوران مشہور شخصیات کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویوں کی بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے۔
حال ہی میں معروف امریکی گلوکارہ کیلی کلارکسن نے نیویارک کے ایک اسٹور پر اپنے ساتھ ہونے والے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد شاپنگ کے دوران عام گاہکوں کی طرح مشہور شخصیات کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ کیلی کلارکسن کا کہنا ہے کہ انہیں ایک دکان پر اس طرح پیش آیا گیا جیسے وہ فلم 'پرٹی وومن' میں جولیا رابرٹس کا کردار ادا کر رہی ہوں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پندرہ ہزار ڈالر مالیت کی ایک گانے والی پنچھی کے حوالے سے اسٹور انتظامیہ اور گلوکارہ کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جس پر میڈیا میں کافی لے دے ہوئی۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح بعض اوقات بڑے برانڈز یا دکانوں کا عملہ اپنی ہی دکان پر آنے والے گاہکوں کے ساتھ نامناسب اور توہین آمیز رویہ اختیار کرتا ہے۔ کیلی کلارکسن اکیلی ایسی ستارہ نہیں ہیں جنہیں اس قسم کی تضحیک آمیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ان سے پہلے میڈیا کی معروف شخصیات بشمول اوپرا ونفری بھی دنیا کے مختلف مہنگے ترین اسٹورز پر نسل پرستی اور بدسلوکی کے الزامات عائد کر چکی ہیں۔ اوپرا ونفری کو ایک بار یورپ کے ایک لگژری ہینڈ بیگ اسٹور میں مبینہ طور پر اس لیے شاپنگ کرنے سے روکا گیا یا کم تر سمجھا گیا کیونکہ اسٹور کے عملے نے انہیں نہیں پہچانا تھا اور ان کی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں مہنگی چیزیں خریدنے کے قابل نہیں سمجھا۔ ان تمام واقعات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شہرت اور دولت کے باوجود کئی بار یہ معروف شخصیات بھی عام انسانوں کی طرح دکانوں اور تجارتی مراکز میں عملے کی ہٹ دھرمی اور ناقص رویے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عوامی بیانات اور شکوے شکاینات دراصل اس بڑے مسئلے کو اجاگر کرتے ہیں جو عام لوگوں کو بھی روزمرہ کی زندگی میں درپیش ہوتا ہے، کیونکہ اگر کیلی کلارکسن یا اوپرا جیسی بڑی ہستیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ ہو سکتا ہے تو عام آدمی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد نیویارک کے اس متعلقہ اسٹور نے اپنے عملے کی تربیت اور مہمان نوازی کو بہتر بنانے کے لیے بیانات جاری کیے ہیں، لیکن اس تنازع نے شاپنگ کلچر میں اخلاقیات اور احترام کے فقدان پر ایک گہرا سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے جو آنے والے دنوں میں بھی زیر بحث رہے گا۔