LIVE
Loading Breaking News...

سیاسی شخصیات کے لیے پولیس سیکیورٹی میں توسیع

News Image
وزیر انصاف شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ عوامی زندگی میں کردار ادا کرنے والی شخصیات کو سیکیورٹی کی ناکافی صورتحال کا سامنا ہے۔ حکومت نے عوامی رہنماؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس پروٹیکشن کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔
برطانوی حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت ان سیاسی شخصیات اور رہنماؤں کو بھی پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے جو اس وقت کسی بھی پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں۔ اس حوالے سے وزراء اور حکام کا ماننا ہے کہ عوامی زندگی میں حصہ لینے والے اور جمہوریت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل افراد کو موجودہ حالات میں شدید تحفظاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیر انصاف شبانہ محمود نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ عوامی زندگی میں کردار ادا کرنے والے بہت سے افراد کو ناکافی تحفظ حاصل ہے، جس سے ان کی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ملک میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات اور دھمکیوں کے تناظر میں حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ توسیع ان تمام افراد کے لیے کارآمد ثابت ہوگی جو پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود سیاسی سرگرمیوں، عوامی مہمات اور کمیونٹی کی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں سیاسی عمل کو محفوظ بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو رونما ہونے سے پہلے روکنا ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ افراد کی خطرات کی سطح کا جائزہ لیں اور اس کے مطابق فوری بنیادوں پر ضروری حفاظتی اقدامات کو عملی جامہ پہنائیں۔ اس فیصلے کا سیاسی حلقوں کی طرف سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے، تاہم کچھ ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ سیکیورٹی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے عمومی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانا ناگزیر ہے تاکہ ہر عام و خاص شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔