World
روس کے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر حملے، زیلنسکی کا بیان
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کے اعلان کے باوجود روس نے چھ مقامات پر حملے کیے ہیں۔ یوکرین نے بین الاقوامی برادری سے اس خلاف ورزی پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جنگ میں نشانہ نہ بنانے کے اعلان کے باوجود روسی افواج نے ملک بھر میں توانائی کی چھ اہم تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے بعد یوکرین کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور مقامی انتظامیہ نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے ڈھانچے کو سردیوں کے موسم میں نشانہ بنانا عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ یوکرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس پر دباؤ ڈالیں تاکہ ایسے حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں، امریکی صدر کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی اور امن کی کوششوں کو زمینی حقائق کے پیش نظر ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔