LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین جنگ اور ٹرمپ کا انرجی سیز فائر، بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

News Image
یوکرین کے دارالحکومت کییف سے بی بی سی کے نمائندے نے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین کے شہری ایک بار پھر بجلی کی بندش کے ساتھ سردیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ٹرمپ کی ممکنہ انرجی سیز فائر کی تجاویز اور ان کے یوکرین پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کییف سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈین جانسن کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے عوام کو ایک بار پھر سخت سردیوں کے دوران بجلی کی طویل بندش اور انرجی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص پاور پلانٹس اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کے بعد حالات انتہائی نازک ہو چکے ہیں، اور عام شہریوں کے لیے اپنے گھروں کو گرم رکھنا اور روزمرہ کے امور انجام دینا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس بحران کے حل کے حوالے سے نئی سفارتی ہلچل جاری ہے۔ سابق امریکی صدر اور آئندہ صدارتی دوڑ کے اہم امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'انرجی سیز فائر' یا توانائی کی جنگ بندی کا خیال زیر بحث ہے۔ اس تجویز کا مقصد بنیادی طور پر توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکنا ہے تاکہ دونوں ممالک سویلین آبادی کو مزید مشکلات سے بچا سکیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے معاہدوں پر عمل درآمد اور اس کی شرائط طے کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہوگا۔ یوکرین کے حکام اور عوام اس صورتحال کو لے کر ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی کی فوری ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کے محدود جنگ بندی معاہدے روس کو عسکری طور پر مزید فائدہ نہ پہنچا دیں۔ کییف میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ سرد موسم میں شہریوں کی بنیادی ضروریات کو کیسے پورا کیا جائے اور جنگ کے اس تباہ کن اثر کو کیسے کم کیا جائے۔ بی بی سی کی اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آنے والے ہفتے یوکرین کی توانائی کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی شراکت دار یوکرین کو جنریٹر، ٹرانسفارمرز اور دیگر ہنگامی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاور گرڈ کو مکمل بیٹھنے سے بچایا جا سکے۔ لیکن جب تک کوئی مستقل سفارتی حل یا فائر وال قائم نہیں ہوتی، عام یوکرینی باشندوں کی مشکلات میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔