LIVE
Loading Breaking News...

سعودی وزیر کا حوثی حملوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا اعلان

News Image
سعودی عرب کے وزیر نے حوثی گروپ کی جانب سے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک اہم کشیدگی کے دوران حملوں میں تیرہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سرکاری وزیر نے ملک کے اہم ہوائی اڈوں اور تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں کے بعد ایک سخت اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ سخت ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور مسلح گروپ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یمن کے حوثی مسلح گروپ نے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک اور اہم تنصیب کو اپنی کارروائی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں تیرہ افراد جاں بحق ہو گئے، جو کہ حالیہ عرصے میں سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں میں ایک بڑا اور افسوسناک جانی نقصان ہے۔ اس سنگین پیشرفت نے سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ دفاعی اقدامات کو مزید سخت کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ وزیر کی جانب سے دی جانے والی اس سخت وارننگ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جوابی کارروائیوں میں تیزی آ سکتی ہے تاکہ ایسے عناصر کو دوبارہ اس قسم کی جارحیت کا موقع نہ مل سکے۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک نے بھی اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کو مزید پھیلانے سے گریز کریں۔ تاہم، سعودی عسکری اور سیاسی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ ہوائی اڈوں جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنانا ناقابلِ برداشت ہے اور اس کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا۔