LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی خانہ جنگی اور عالمی اثرات کا جائزہ

News Image
یمن کی خانہ جنگی نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے جہاں اس تنازع کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عدن کے ایک بندرگاہی شہر کے آپریشن تھیٹرز میں زمینی حقائق اور جیو پولیٹکس کی حقیقتیں واضح ہوتی ہیں۔
یمن کی طویل اور پیچیدہ خانہ جنگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے نظر انداز کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں رہا۔ ملک کے صحرائی اور شہری میدان جنگ میں لڑی جانے والی یہ لڑائی بظاہر اندرونی تنازع معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات براہ راست عالمی معیشت اور خطے کے امن پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یمن کا یہ بحران ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی ہے۔ دوسری جانب، یمن کے اہم بندرگاہی شہر عدن کے ہسپتالوں اور آپریشن تھیٹرز کے اندر صورتحال بالکل مختلف اور انسانی درد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے بڑی جغرافیائی سیاست یا عالمی طاقتوں کی رسہ کشی اس وقت پس منظر میں چلی جاتی ہے جب ان کے سامنے زخمی مریض لائے جاتے ہیں۔ عدن کے ان طبی مراکز میں دن رات انسانی جانیں بچانے کی جنگ لڑی جا رہی ہے، جہاں وسائل کی کمی کے باوجود طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں انتہائی بہادری سے نبھا رہا ہے۔ اس جنگ کے اثرات صرف یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں تجارتی گزرگاہوں کی سکیورٹی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی راستے متاثر ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک اس تنازع کے پرامن حل کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک یمن کے اندرونی فریقین مذاکرات کی میز پر نہیں آتے، تب تک عام شہریوں کی مشکلات میں کمی لانا اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ عدن سے لے کر یمن کے دور دراز صحرائی علاقوں تک، انسانی المیہ دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں یمن کے عوام تک خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مسلسل اپیلیں کر رہی ہیں۔ اگرچہ سیاسی محاذ پر کشمکش جاری ہے، لیکن زمینی سطح پر انسانی ہمدردی کے تحت فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے زیاں کو روکا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو اس مصیبت سے نکالا جا سکے۔