Entertainment
ٹام کروز کی فلم ڈیگر ہالی ووڈ کی بڑی فلاپ فلم بن سکتی ہے
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز کی نئی فلم 'ڈیگر' باکس آفس پر شدید مندی کا شکار ہو گئی ہے۔ ریلیز کے دوسرے ہفتے ہی فلم کی کمائی میں ساٹھ فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ہالی ووڈ کے سپرسٹار ٹام کروز کی نئی اور انتہائی متوقع فلم 'ڈیگر' کے حوالے سے تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ باکس آفس پر اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ فلم ہالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی ناکامیوں یا فلاپ فلموں کی فہرست میں شامل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ فلم بینوں اور ناقدین کی طرف سے اسے ملا جلا ردعمل ملا تھا، جس کا براہ راست اثر اس کی ٹکٹوں کی فروخت پر پڑا ہے۔ باکس آفس کے اعداد و شمار کے مطابق فلم نے ریلیز کے دوسرے ہی ہفتے کے دوران اپنی مجموعی کمائی میں تقریبا ساٹھ فیصد تک کی بڑی گراوٹ کا سامنا کیا ہے۔ اتنی بڑی مندی کسی بھی بڑے بجٹ کی فلم کے لیے انتہائی خطرناک علامت سمجھی جاتی ہے، بالخصوص جب اس کے ساتھ ٹام کروز جیسے عالمی شہرت یافتہ اداکار کا نام جڑا ہو۔ فلم سازوں اور اسٹوڈیو کے لیے یہ صورتحال شدید پریشانی کا باعث بن گئی ہے، کیونکہ ابتدائی توقعات کے برعکس فلمی شائقین سینما گھروں کا رخ کرنے سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فلم کے زوال کی رفتار یہی رہی تو پروڈیوسرز کو کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے ہالی ووڈ کے فلمی حلقوں میں ایک بار پھر بڑے بجٹ کی فلموں کے خطرات اور ناظرین کے بدلتے ہوئے رجحانات پر بحث چھوٹی ہے۔ ٹام کروز کے پرستار بھی اس غیر متوقع ناکامی پر حیران ہیں، کیونکہ ان کی پچھلی فلمیں باکس آفس پر ہمیشہ نئے ریکارڈ قائم کرتی رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا فلم کی ٹیم اس مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی بناتی ہے یا یہ فلم ہالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی ناکامیوں میں مستقل طور پر درج ہو جاتی ہے۔