LIVE
Loading Breaking News...

ڈیزل کی قیمتیں، ایران بمقابلہ یوکرین جنگ کے اثرات

News Image
مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی سطح پر ڈیزل کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ تاہم، تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے ڈیزل کی فراہمی میں زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں میں اس وقت دو بڑی جنگیں یعنی یوکرین تنازعہ اور مشرق وسطیٰ میں ایران سے جڑی کشیدگی انتہائی اہم موڑ پر ہیں۔ ان دونوں تنازعات نے دنیا بھر میں ڈیزل کی برآمدات اور رس رسد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے عام صارفین اور صنعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ماہرین اور اقتصادی ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں میں سے کس خطے کے بحران کا اثر سب سے زیادہ گہرا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے یورپ اور دیگر خطوں میں ایندھن کی سپلائی چین کو تہہ و بالا کر دیا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کے خطے سے ہونے والی برآمدات میں ہونے والا نقصان کہیں زیادہ بڑا ہے۔ مشرق وسطیٰ دنیا کے اہم ترین توانائی کے راہداریوں میں شامل ہے، اور وہاں جاری تناؤ براہ راست تیل اور ڈیزل کی ترسیل کو روکنے کا سبب بن رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست تعلق انھی دو محاذوں سے ہے۔ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے، عالمی منڈی میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے کیونکہ اس خطے سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر کی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، یوکرین جنگ کے اثرات زیادہ تر مخصوص خطہوں تک محدود رہے ہیں، اگرچہ ان کے عالمی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ان دونوں جغرافیائی سیاسی تنازعات کا کوئی مستقل سفارتی حل نہیں نکالا جاتا، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔ حکومتوں اور توانائی کے اداروں کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے مزید طوفان سے بچایا جا سکے.